Tuesday, September 8, 2015

چاند اور شاعر

شاعر
اک رات میرے دل میں جو کچھ آ گیا خیال
یوں چودھویں کے چاند سے میں نے کیا سوال
اے چاند تجھ سے رات کی عزت ہے ، لاج ہے
سورج کا راج دن کو ، ترا شب کو راج ہے
تو نے یہ آسمان کی محفل سجائی ہے
تو نے زمیں کو نور کی چادر اُڑھائی ہے
تو وہ دیا ہے جس سے زمانے میں نور ہے
ہے تو فلک پہ ، نور ترا دور دور ہے
پھیکی پڑی ہوئی ہے ستاروں کی روشنی
گویا کہ اس چمن پہ خزاں کی ہوا چلی
تیری چمک کے سامنے شرما گئے ہیں یہ
تیری ہوا بندھی ہے تو مرجھا گئے ہیں یہ
اس وقت تیرے سامنے سورج بھی مات ہے
دولھا ہے تو ، نجوم کی محفل برات ہے
پائی ہے چاندنی یہ کہاں سے ، بتا مجھے
یہ نور ، یہ کمال کہاں سے ملا تجھے؟
مجھ کو بھی آرزو ہے کہ ایسا کمال ہو
تیری طرح کمال مرا بے مثال ہو
روشن ہو میرے دم سے زمانہ اسی طرح
دنیا میں اپنا نام نکالوں تری طرح
حاصل کروں کمال ، بنوں چودھویں کا چاند
تو ہے فلک کا چاند ، بنوں میں زمیں کا چاند
ہر ایک کی نظر میں سمائوں اسی طرح
شہرت کے آسمان پہ چمکوں اسی طرح
چاند
میرا سوال سن کے کہا چاند نے مجھے
لے بھید اپنے نور کا کہتا ہوں میں تجھے
سورج اگر نہ ہو تو گزارا نہیں مرا
مانگا ہوا ہے نور یہ اپنا نہیں مرا
سورج کے دم سے مجھ کو یہ حاصل کمال ہے
کامل اسی کے نور سے میرا ہلال ہے
پھرتا ہوں روشنی کی تمنّا میں رات دن
رہتا ہوں میں کمال کے سودا میں رات دن
مجھ کو اڑائے پھرتی ہے خواہش کمال کی
کر پیروی جہان میں میری مثال کی
بے فائدہ نہ اپنے دنوں کو خراب کر
میری طرح تلاش کوئی آفتاب کر
کہتے ہیں جس کو علم وہ اک آفتاب ہے
یکتا ہے ، بے مثال ہے اور لاجواب ہے
ایسے کمال کی ہے تمنّا اگر تجھے
تو نور جا کے مانگ اسی آفتاب سے
ہے چاند کے کمال کو خطرہ زوال کا
رہتا ہے ہر گھڑی اسے دھڑکا زوال کا
محفوظ اس خطر سے ہنر کا کمال ہے
گھٹنے کا اس کو ڈر ہے نہ خوفِ زوال ہے
دنیا میں زندگی کا نہیں اعتبار کچھ
رہتی ہے اس چمن میں ہمیشہ بہار کچھ
انساں کو فکر چاہیے ہر دم کمال کی
’’کسبِ کمال کن کہ عزیزِ جہاں شوی‘‘

0 comments:

Post a Comment