Tuesday, September 8, 2015

برگِ گل

کیوں نہ ہوں ارماں مرے دل میں کلیم اللہ کے
طور در آغوش ہیں ذرّے تری درگاہ کے
میں تری درگاہ کی جانب جو نکلا ، لے اڑا
آسماں تارے بنا کر میری گردِ راہ کے
ہے زیارت کی تمنّا ، المدد اے سوزِ عشق
پھول لا دے مجھ کو گلزارِ خلیل اللہ کے
شانِ محبوبی ہوئی ہے پردہ دارِ شانِ عشق
ہائے کیا رتبے ہیں اس سرکارِ عالی جاہ کے
تر جو تیرے آستانے کی تمنّا میں ہوئی
اشک موتی بن گئے چشمِ تماشا خواہ کے
رنگ اس درگہ کے ہر ذرّے میں ہے توحید کا
طائرانِ بام بھی طائر ہیں بسم اللہ کے
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا اثبات نفیِ غیر میں
’’لا‘‘ کے دریا میں نہاں، موتی ہیں ’’اِلا اللہ‘‘ کے
سنگِ اسود تھا مگر سنگِ فسانِ تیغِ عشق
زخم میرے کیا ہیں ، دروازے ہیں بیت اللہ کے
عشق اس کو بھی تری درگاہ کی رفعت سے ہے
آہ! یہ انجم نہیں ، آنسو ہیں چشمِ ماہ کے
کس قدر سر سبز ہے صحرا محبّت کا مری
اشک کی نہریں ہیں اور سائے ہیں نخلِ آہ کے
تیرے ناخن نے جو کھولی میمِ احمدؐ کی گرہ
کھل گئے عُقدے جہاں میں ہر خدا آگاہ کے
میرے جیسے بے نوائوں کا بھلا مذکور کیا
قیصر و فغفور درباں ہیں تری درگاہ کے
محوِ اظہارِ تمنائے دلِ نا کام ہوں
لاج رکھ لینا کہ میں اقبال کا ہم نام ہوں۱
سہمی پھرتی ہے شفا میرے دلِ بیمار سے
اے مسیحا دم ! بچالے مجھ کو اس آزار سے
اے ضیائے چشمِ عرفاں ، اے چراغِ راہِ عشق
تنگ آیا ہوں جفائے چرخِ ناہنجار سے
سینۂ پاکِ علیؓ جن کا امانت دار تھا
اے شہِ ذی جاہ ! تو واقف ہے ان اسرار سے
ہند کا داتا ہے تو تیرا بڑا دربار ہے
کچھ ملے مجھ کو بھی اس دربارِ گوہر بار سے
اک نظر میں خسروِ ملکِ سخن خسرو ہوا
میں کہیں خالی نہ پھر جائوں تری سرکار سے
تاک میں بیٹھی ہے بجلی میرے حاصل کے لیے
بیر ہے بادِ بہاری کو مرے گلزار سے
آج کل اصغر جو تھے اکبر ہیں اور مولا غلام
ہیں مجھے شکوے ہزاروں چرخِ کج رفتار سے
کیا کروں اوروں کا شکوہ اے امیرِ ملکِ فقر!
دشمنی میں بڑھ گئے اہلِ وطن اغیار سے
کہہ رہے ہیں مجھ کو پربستہ قفس میں دیکھ کر
اڑ نہ جائے یہ کہیں پر کھول کر منقار سے
گریۂ شبنم پہ گل ہنستے ہیں کیا بے درد ہیں
وہ جو تھی بوئے محبت اڑ گئی گلزار سے
گھات میں صیّاد ، مائل آشیاں سوزی پہ برق
باغ بھی بگڑا ہوا ہے عندلیبِ زار سے
کہہ دیا تنگ آ کے اتنا بھی کہ میں مجبور تھا
خامشی ممکن نہیں خو کردئہ گفتار سے
ہاں قسم دیتا ہوں میں مد فونِ یثربؐ کی تجھے
کر دعا حق سے کہ میں چھٹ جائوں اس آزار سے
سخت ہے میری مصیبت ، سخت گھبرایا ہوں میں
بن کے فریادی تری سرکار میں آیا ہوں میں
کیمیا سے بھی فزوں ہے تیری خاکِ در مجھے
ہاں عطا کر دے مرے مقصود کا گوہر مجھے
تو ہے محبوبِ الٰہی ، کر دعا میرے لیے
یہ مصیبت ہے مثالِ فتنۂ محشر مجھے
آہ اس غم میں اگر تو نے خبر میری نہ لی
غرق کر ڈالے گی آخر کو یہ چشمِ تر مجھے
ہو اگر یوسف مرا زحمت کشِ چاہِ الم
چَین آئے مصرِ آزادی میں پھر کیونکر مجھے
آپ یہ وقفِ تپش ہم صورتِ سیماب ہے
کیا تسلّی دے بھلا میرا دلِ مضطر مجھے
کیا کہوں میں قصۂ ہمدردیِ اہلِ وطن
تیر کوئی بھیجتا ہے اور کوئی نشتر مجھے
یہ خوشی پھیلی مرے غم سے کہ شادی مرگ ہیں
زندگانی ہو گئی ہے موت سے بدتر مجھے
اس بڑی سرکار کے قابل مری فریاد ہے
چل، حضوری میں شہِ یثربؐ کی تو لے کر مجھے
میرا کیا منہ ہے کہ اس سرکار میں جائوں مگر
تیرے جیسا مل گیا تقدیر سے رہبر مجھے
واسطہ دوں گا اگر لختِ دل زہرا ؓ کا میں
غم میں کیوں کر چھوڑ دیں گے شافعِ محشرؐ مجھے
ہوں مریدِ خاندانِ خفتۂ خاکِ نجف
موجِ دریا آپ لے جائے گی ساحل پر مجھے
رونے والا ہوں شہیدِ کربلا کے غم میں میں
کیا دُرِ مقصد نہ دیں گے ساقیِ کوثر مجھے
دل میں ہے مجھ بے عمل کے داغِ عشقِ اہلِ بیت
ڈھونڈتا پھرتا ہے ظّلِ دامنِ حیدرؓ مجھے
جا ہی پہنچے گی صدا پنجاب سے دہلی تلک
کر دیا ہے گرچہ اس غم نے بہت لاغر مجھے
آہ ! تیرے سامنے آنے کے ناقابل ہوں میں
منہ چھپا کر مانگتا ہوں تجھ سے وہ سائل ہوں میں

0 comments:

Post a Comment